خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
دیوانے جھوم جاتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
خوشی ہے آمنہؓ کے گھر وہ آئے نور کے پیکر
جو پیدا ہو کے سجدے میں اپنے سر کو جھکاتے ہیں
دھن بھی نور نور ہے بدن بھی نور نور ہے
نظر بھی نور نور ہے وہ نورِ حق کہلاتے ہیں
جو دیکھا حسن یوسف کو تو اپنی انگلیاں کاٹیں
وہ حسنِ مصطفی دیکھیں وہ اپنے سر کو کٹاتے ہیں
فرشتوں کی یہ سنت ہے کہ آقا سے محبت میں
میناروں اور مکانوں پر جوہم جھنڈے لہراتے ہیں
ذرا جھنڈوں کو لہراؤ ذرا ہاتھوں کو لہراؤخدا کی اب رضا پاؤذرا ہاتھوں کو لہراؤ
یہی وہ کام ہے جس سے مسلماں جنت پاتے ہیں
مہدمیں چاند کو دیکھا تو نوری نور سے کھیلا
جہاں انگلی اٹھاتے ہیں وہیں پر چاند کو پاتے ہیں
وہ جھولا نور کا جھولاسراپا نور کا جھولا
جنہیں نوری جھلاتے ہیں جنہیں نوری سلاتے ہیں
ولادت کی گھڑی آئی بہار اب جھوم کر چھائی
وہ دیکھو آ گئے آقا دیوانے دھوم مچاتے ہیں
خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- قصیدۂ معراج
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- امام المرسلیں آئے
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا