دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را