دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- سب سے افضل سب سے اعظم
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل