دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- صانع نے اِک باغ لگایا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- حمدِ خدا میں کیا کروں