دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- چار یار نبی دے چار یار حق
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- میرے مولا کرم ہو کرم
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا