دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
کہ انسان اعلیٰ تیرے نام سے ہے
تو رحمت سرا سر تو بخشش سرا سر
گناہ کا ازالہ تیرے نام سے ہے
کوئی جل کے تجھ سے عمل کھو رہا ہے
کوئی شان والا تیرے نام سے ہے
تیری ذات ہے رونقِ دین و دنیا
جہاں اتنا پیارا تیرے نام سے ہے
سبھی کائناتوں میں جاں تیرے دم سے
یہ دلکش نظارا تیرے نام سے ہے
میں محبوؔب کیوں نہ جپوں نام تیرا
کہ میرا گزارا تیرے نام سے ہے
دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
حالیہ پوسٹیں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- تیری شان پہ میری جان فدا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک