دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
ہے جنت سے بڑھ کے غبارِ مدینہ
چلو سر کے بل اے میرے ہم سفیرو
کہ دِکھنے لگے ہیں آثارِ مدینہ
یہاں پھول کھل کے بکھرتے نہیں ہیں
خزاں سے مبرا بہارِ مدینہ
فلک جسکی چوٹی پہ بوسہ کناں ہے
ہے کتنا بلند وہ مینارِ مدینہ
اِسے نارِ دوزخ جلائے گی کیسے
ہے محبوؔب بھی خاکسارِ مدینہ
دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
حالیہ پوسٹیں
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- تیری شان پہ میری جان فدا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا