دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
ہے جنت سے بڑھ کے غبارِ مدینہ
چلو سر کے بل اے میرے ہم سفیرو
کہ دِکھنے لگے ہیں آثارِ مدینہ
یہاں پھول کھل کے بکھرتے نہیں ہیں
خزاں سے مبرا بہارِ مدینہ
فلک جسکی چوٹی پہ بوسہ کناں ہے
ہے کتنا بلند وہ مینارِ مدینہ
اِسے نارِ دوزخ جلائے گی کیسے
ہے محبوؔب بھی خاکسارِ مدینہ
دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
حالیہ پوسٹیں
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو