تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
یہی ابتداء یہی انتہا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
آئے غم جدھر سے ادھر گئے میرے بگڑے کام سنور گئے
میں نے جب زبان سے یہ کہا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
ہو قریب فاصلہ دور کا ہو کرم یہ رب غفور کا
ہو دیدار آج حضور کا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
میں تھا کیا مجھے کیا بنا دیا مجھے عشقِ احمد عطا کیا
ہو بھلا حضورکی آل کا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
میں غلام ابن غلام ہوں میں تو پنجتن کا غلام ہوں
میرا رہنما میرا پیشوا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
مرے جب سجنؔ تو ہے یہ دعا میرے لب پے ہو نام مصطفی
میری قبر پے ہو لکھاہوا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
حالیہ پوسٹیں
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- اک خواب سناواں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا