دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے
کب وہ چاہیں گے میری حشر میں رسوائی ہو
آستانہ پہ ترے سر ہو اجل آئی ہو
اور اے جان جہاں تو بھی تماشائی ہو
اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو
کبھی ایسا نہ ہوا اُن کے کرم کے صدقے
ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو
یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نا بنے
ایسے یکتا کے لئے ایسی ہی یکتائی ہو
اس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحت
خاک طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو
بند جب خواب اجل سے ہوں حسن کی آنکھیں
اس کی نظروں میں تیرا جلوہ زیبائی ہو
دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
حالیہ پوسٹیں
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے