دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
ایک پل میں ہزاروں عالم میں
آنا جانا میرے حضور کا ہے
نعمتیں سب وہی کھلاتے ہیں
دانہ دانہ میرے حضور کا ہے
مجھ سا عاصی کہاں مدینہ کہاں
یہ بلانا میرے حضور کا ہے
روز محشر جو بخشواۓ گا
وہ بہانا میرے حضور کا ہے
حشر میں انکے ساتھ اٹھے گا
جو دیوانہ میرے حضور کا ہے
جن پہ اتری ہے آیہ تطہیر
وہ گھرانہ میرے حضور کا ہے
ذکر شامل نماز میں خالد
پنجگانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
حالیہ پوسٹیں
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- دعا
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- رُبا عیات
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو