دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
ایک پل میں ہزاروں عالم میں
آنا جانا میرے حضور کا ہے
نعمتیں سب وہی کھلاتے ہیں
دانہ دانہ میرے حضور کا ہے
مجھ سا عاصی کہاں مدینہ کہاں
یہ بلانا میرے حضور کا ہے
روز محشر جو بخشواۓ گا
وہ بہانا میرے حضور کا ہے
حشر میں انکے ساتھ اٹھے گا
جو دیوانہ میرے حضور کا ہے
جن پہ اتری ہے آیہ تطہیر
وہ گھرانہ میرے حضور کا ہے
ذکر شامل نماز میں خالد
پنجگانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے
دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
حالیہ پوسٹیں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا