حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کیلئے حاضر غلام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سے پھر مری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبان ِ بو صیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے
مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحت خیر الانام ہو جائے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- اک خواب سناواں
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے