حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کیلئے حاضر غلام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سے پھر مری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبان ِ بو صیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے
مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحت خیر الانام ہو جائے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- سب سے افضل سب سے اعظم
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن