دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
تو پکار اٹھے گا ہر نبی تو عظیم ہے تو مہان بھی
تیرے نام کتنے ہیں دلربا یا مصطفےٰ شمسُ الضحیٰ
تیرے نام پہ میری جاں فدا میری جاں تو کیا یہ جہان بھی
تیرے نامِ نامی کی قدر تو کوئی پوچھے ربِ جلیل سے
کہ عذابِ چانٹا سے بچ گیا تیرا نام لے کے شیطان بھی
تیری صفتِ جود و عطا شاہا ہے محیط دونوں جہان پر
تو شفیعِ روزِ جزا بھی ہے ہے یہ میرا دین و ایمان بھی
تیری ذات محورِ زندگی سرِ عرش سے دمِ فرش تک
تو ہے رب کا پیارا رسول بھی اور عاصیوں کا ہے مان بھی
دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
حالیہ پوسٹیں
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے