دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
جو مانتا نہیں ہے بڑا ہی جہول ہے
دل میں اگر نبی کا عشق موجزن نہیں
پھر حج نماز روزہ سبھی کچھ فضول ہے
گر ادب والی آنکھ میسر ہو دیکھنا
خارِ مدینہ اصل میں جنت کا پھول ہے
جو مصطفےٰ کے در پہ ادب سے جھکا نہیں
اسکا کوئی بھی عمل نہ رب کو قبول ہے
ہر دم نبی کی ذات پہ پڑھنا درود کا
محبوؔب روز و شب یہ ہمارا معمول ہے
دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
حالیہ پوسٹیں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- صانع نے اِک باغ لگایا
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- رُبا عیات
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا