جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
لفظ نہیں تھے انکے قابل جانے کیا کیا بول گیا
سوہنا ماہی میرا دلبر میرا پیارا میرا رہبر
انکے رتبے سے تھا غافل جانے کیا کیا بول گیا
انکے پاکیزہ دامن میں مَیں بھی چھپنا چاھتا ہوں
بے وقعت جذبے لاحاصل جانے کیا کیا بول گیا
خالقِ کُل کی انکے بارے نعت سرائی دیکھی تو
آنکھیں برسیں بن کے بادل جانے کیا کیا بول گیا
میں حقیر تھا کاہ سے یارو مجھ پہ بھی یہ لطف و کرم
دیکھا جب جدہ کا ساحل جانے کیا کیا بول گیا
میں ذلت کا کیڑا ہو کر کہتا رہا ہوں نعتِ سرور
رب کے بعد وہ سب سے افضل جانے کیا کیا بول گیا
میں عاشق میں پروانہ ہوں وہ محبوب ہیں شمعِ محفل
انکی محبت میں دل پاگل جانے کیا کیا بول گیا
جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
حالیہ پوسٹیں
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- انکی مدحت کرتے ہیں
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار