دیوانوں کا جشنِ عام
جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے دیوانوں کا جشنِ عام ہے
عظمتِ فرقِ شہِ کونین کیا جانے کوئی
جس نے چومے پائے اقدس عرش اُس کا نام ہے
آ رہے ہیں وہ سرِ محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ مِرا انجام ہے
تو اگر چاہے تو پھر جائیں سیہ کاروں کے دن
ہاتھ میں تیرے عنانِ گردشِ ایّام ہے
روئے انور کا تصور زلفِ مشکیں کا خیال
کیسی پاکیزہ سحر ہے کیا مبارک شام ہے
دل کو یہ کہہ کر رہِ طیبہ میں بہلاتا ہوں میں
آ گئی منزل تِری، بس اور دو ،اک گام ہے
سا قیِ کوثر کا نامِ پاک ہے وردِ زباں
کون کہتا ہے کہ تحسیؔں آج تشنہ کام ہے
جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
حالیہ پوسٹیں
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے