بس میرا ماہی صل علیٰ
بس میرا ماہی صل علیٰ بس میرا ماہی صل علیٰ
میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
ان کا شیدا رب عُلیٰ ان کا شیدا رب عُلیٰ
میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
طٰہٰ یٰس اور مزمل شاہ مدینہ احمد مرسل
شافعِ عُلیٰ فیِ الروز جزا میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
رحمت عالم بن کر آیا دونوں جہاں پر اس کا سایہ
وہ محبوب ربِ عُلیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
دونوں عالم صدقہ جن کا صبح شام ہے چرچہ انکا
ورد ملائک صل علیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
عرش پہ آنے جانے والے رحمت عالم حق کے اجالے
وہ محبوب رب عُلیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
ان کے کرم کی بات ہے عاصی رب کا کرم اور دنیا راضی
وہ محبوب رب عُلیٰ میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
بس میرا ماہی صل علیٰ
حالیہ پوسٹیں
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- صانع نے اِک باغ لگایا
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن