تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- سب سے افضل سب سے اعظم
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- امام المرسلیں آئے
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو