تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا