تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ