دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
خار اس گلستاں کے پھولوں سے بھی نیارے ہیں
حسنِ خاکِ طیبہ کو کس سے تشبیہ دیویں
ذرے خاکِ طیبہ کے چاند سے بھی پیارے ہیں
طیبہ والے آقا کی شان کیا بتاؤں میں
عرشی انھیں اپنا کہیں ہم کہیں ہمارے ہیں
والضحیٰ کے چہرے کا خود خدا شیدائی ہے
گیسو میرے آقا کے حق نے خود سنوارے ہیں
والضحیٰ یٰسیں طٰحٰہ میرا پیارا کملی والا
حق نے کس محبت سے نام یہ پکارے ہیں
دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے