تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- چھائے غم کے بادل کالے
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے