تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا