تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- انکی مدحت کرتے ہیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا