FARSI:
گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
بلبل ز تو آموختہ شیریں سخنی را سخنی را سخنی را
URDU:
پھولوں نے نازک بدنی آپ سے سیکھی
بلبل نے اپنی زبان کی مٹھاس آپ سے سیکھی
—————
FARSI:
ہر کس کہ لب لعل ترا دیدہ بہ دل گفت
حقا کہ چہ خوش کندہ عقیق یمنی را یمنی را یمنی را
URDU:
جس نے بھی آپ کے ہونٹوں کو دیکھا تو دل میں کہا
حق ہے کہ کیا خوب یمنی عقیق ہیں
—————
FARSI:
خیاط ازل دوختہ قامت زیبا
دو قد توایں جا مئہ سرو چمنی را چمنی را چمنی را
URDU:
ازل کے درزی یعنی خدا نے آپ کی کیا خوب قامت بنائی ہے
آپ کے تن کو باغ کے سرو کی طرح سجایا ہے
—————
FARSI:
در عشق تو دندان شکست است بہ الفت
تو جامہ رسا نید ایس قرنی را قرنی را قرنی را
—————
FARSI:
ازجامی بے چارا رسانید سلامے
بر در گہہ دربار رسول مدنی را مدنی را مدنی را
شاعر : نورالدین عبدالرحمن جامی
زبان : فارسی
گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
حالیہ پوسٹیں
- صانع نے اِک باغ لگایا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے