گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
ناقصاں راپر کامل کاملاں را راہنما
ہو رقم کس سے تمہارا مرتبہ یا گنج بخش
ہیں ثناء خواں آپ کے شاہ وگدا یا گنج بخش
بحر غم میں ہوتی ہے زیروزبر کشتی میری
لو خبر بحرِ محمد مصطفی یا گنج بخش
مہربان ہو کر ہماری مشکلیں آساں کرو
صدقہ حضرت علی مرتضیٰ یا گنج بخش
ازپئے خواجہ حسن بصری مجھے ہونے نہ دو
پھندہ حرص وہوا میں مبتلا یا گنج بخش
از برائے طاعت حضرت حبیب عجمی کرو
نور ایماں سے منور دل مرا یا گنج بخش
حضرت داؤد طائی پیر کامل کے طفیل
کیجیے سب حاجتیں سب کی روا یا گنج بخش
از پئے معروف کرخی خواب میں آکر مجھے
چہرہ انور دکھا دو بر ملا یا گنج بخش
از برائے سری سقطی رہے لب پر میرے
اسم اعظم آپ کا جاری سدا یا گنج بخش
ازپئے الطاف وتکریم وفیوضیات جنید
ہو ہمارے حال پر نظر عطا یا گنج بخش
از برائے حضرت ابوبکر شبلی نامدار
ہو ہمارے دل کا حاصل مدعا یا گنج بخش
از پئے حضرت علی حسری مجھے کردو رہا
ہوں گرفتار غم ورنج وبلا یا گنج بخش
از برائے ابوالفضل ختلی رہے جلوہ نما
ہر گھڑی دل میں تصور آپ کا یا گنج بخش
یا علی مخدوم ہجویری برائے ذات خویش
غیر کا ہونے نہ دو ہم کو گدا یا گنج بخش
جب نظر لطف وکرم کی شیخ ہندی پر پڑی
کردیا قطرے سے دریا آپ نے یا گنج بخش
حضرت خواجہ معین الدین بابا فرید الدین کو
گنج عرفاں آپ کے در سے ملا یا گنج بخش
آپ کے دربار میں آکر کیا جس نے سوال
آپ نے بخشا اس کو گنج بے بہا یا گنج بخش
اس بشر کے ہوگئے فوراً سبھی مطلب روا
صدق سے اک مرتبہ جس نے کہا یا گنج بخش
کس کے در پر یہ ظہور الدین کرے جاکر سوال
آپ کے دربار عالی کے سوا یا گنج بخش
گنج بخشی آپ کی مشہور ہم پہ کر کرم
کر کرم کرواکرم دونوں جہاں میں رکھ شرم
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
حالیہ پوسٹیں
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- صانع نے اِک باغ لگایا
- اک خواب سناواں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- چھائے غم کے بادل کالے
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ