لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- میرے مولا کرم ہو کرم
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں