سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
اس نام سے چمکا سورج اور چمکا چاند ستارا
ہوا ہر سو خوب اجالا ہوا روشن عالم سارا
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
جب ربِ قدیر تمھاری کرے خود ہی مدح سرائی
ہر اک کے لبوں پر پھر تو تعریف تمھاری آئی
صد شکر کے ذکر تمھارا رہے ہر دم ورد ہمارا
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
ہر وقت عطا پر ہم نے دیکھا ہے تمھیں تو مائل
در پاک پے آیا جب بھی کیسا ہی کوئی سائل
اے رحمت عالم تم نے اسے کر ہی لیا ہے گوارہ
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
سائل ہوں تیرے در کا ملے مجھ کوبھیک کرم کی
رکھ لاج اے میرے آقا اس میری چشم نم کی
کروں گنبد خضرا کاپھر آنکھوں سے اپنی نظارہ
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
جب روز قیامت ہر اک بولے گا نفسی نفسی
اور داد کسی کی دے گا محشر میں جب نہ کوئی
ایسے میں عطا ہو مجھ کو اے شافع حشر سہارا
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
لہروں نے میری یہ کشتی ہر جانب سے ہے گھیری
سرکار خبر لو میری سرکار خبر لو میری
ملے مجھ کو عافیت کا میرے آقا جلد کنارہ
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
جو مجھ پر بیت رہی ہے وہ کس کو کیسے بتاؤں
اور اپنے دل کی کائیت بھلا کس کوجا کے سناؤں
تم محرمِ راز ہو میرے میری داد رسی ہو خدارا
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
میری عرض خدارا سن لو میرے حال پے مجھ کو نہ چھوڑو
ذرا اپنی چشمِ عنائیت بے بس کی طرف بھی موڑو
بے کس کا تم ہو سہارا بے چارے کا تم ہو چارہ
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
دو اپنے عشق کی دولت مجھے اپنی آل کا صدقہ
یہ ریاضؔ فقیر ازل سے تیرے در کا ہی ہے شاہا
تیرے دست عطاکے آگے دامن ہے اس نے پسارا
میرا نام کرے گا روشن دو جگ میں نام تمھارا
سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
حالیہ پوسٹیں
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں