سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- چار یار نبی دے چار یار حق
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو