سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں