سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے