سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- چھائے غم کے بادل کالے
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر