سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- اک خواب سناواں
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے