سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- چار یار نبی دے چار یار حق
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ