سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- چھائے غم کے بادل کالے
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو