راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
جینے میں یہ جیناہے کیا بات ہے جینے کی
عرصہ ہوا طیبہ کی گلیوں سے وہ گزرے تھے
اس وقت بھی گلیوں میں خوشبو ہے پسینے کی
یہ زخم ہے طیبہ کا یہ سب کو نہیں ملتا
کوشش نہ کرے کوئی اس زخم کو سینے کی
یہ اپنی نگاہوں سے دیوانہ بناتے ہیں
(دیوانہ بناتے ہیں مستانہ بناتے ہیں مستانہ بناتے ہیں اور در پے بلاتے ہیں جب در پے بلاتے ہیں جلوہ بھی دکھاتے ہیں جلوہ بھی دکھاتے ہیں سینے سے لگاتے ہیں سینے سے لگاتے ہیں قدموں میں سلاتے ہیں)
یہ اپنی نگاہوں سے دیوانہ بناتے ہیں
زحمت ہی نہیں دیتے مے خوار کو پینے کی
طوفان کی کیا پرواہ یہ بھول نہیں سکتا
ضامن ہے دعا ان کی امت کے سفینے کی
ہر سال مدینے میں عاصی کو بلاتے ہیں
سرکار جگاتے ہیں تقدیر کمینے کی
راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
حالیہ پوسٹیں
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا