حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
رکنِ شامی سے مٹی وحشتِ شامِ غربت
اب مدینے کو چلو صبحِ دل آرا دیکھو
آبِ زم زم تو پیا خوب بجھائیں پیاسیں
آؤ جودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو
زیرِ میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو
دھوم دیکھی درِ کعبہ پہ بے تابوں کی
اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو
مثلِ پروانہ پھرا کرتے تھے جس شمع کے گرد
اپنی اُس شمع کو پروانہ یہاں کا دیکھو
خوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ
قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
یاں سیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو
اوّلیں خانۂ حق کی تو ضیائیں دیکھیں
آخریں بیتِ نبی کا بھی تجلّا دیکھو
زینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ
جلوہ فرما یہاں کونین کا دولھا دیکھو
ایمنِ طور کا تھا رکنِ یمانی میں فروغ
شعلۂ طور یہاں انجمن آرا دیکھو
مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم
جن پہ ماں باپ فدا یاں کرم ان کا دیکھو
عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیلِ انجاح
آؤ اب داد رسیِّ شہِ طیبہ دیکھو
دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسوَد
خاک بوسیِّ مدینہ کا بھی رتبہ دیکھو
کر چکی رفعتِ کعبہ پہ نظر پروازیں
ٹوپی اب تھام کے خاکِ در ِ والا دیکھو
بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت
جوشِ رحمت پہ یہاں ناز گنہ کا دیکھو
جمعۂ مکّہ تھا عید، اہلِ عبادت کے لیے
مجرمو! آؤ یہاں عیدِ دو شنبہ دیکھو
ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں
ادب و شوق کا یاں باہم الجھنا دیکھو
خوب مسعیٰ میں بامّیدِ صفا دوڑ لیے
رہِ جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو
رقصِ بسمل کی بہاریں تو منٰی میں دیکھیں
دلِ خونابہ فشاں کا بھی تڑپنا دیکھو
غور سے سن تو رؔضا! کعبے سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے مِرے پیارے کا روضہ دیکھو
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
حالیہ پوسٹیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- سیف الملوک
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ