حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کیوں کسی کے در پہ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
میں غلام مصطفی ہوں یہ مری پہچان ہے
غم مجھے کیوں کر ستائیں آپ کے ہوتے ہوئے
شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن
کون دیکھے گا خطائیں آپ کے ہوتے ہوئے
زلفِ محبوب خدا لہرائے گی محشر کے دن
خوب یہ کس کی گھٹائیں آپ کے ہوتے ہوئے
میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے بازار میں
چھین لے کوئی ردائیں آپ کے ہوتے ہوئے
اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
ہم کہاں سرکار جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کہہ رہا ہے آپ کا رب “اَنتَ فِیھِم” آپ سے
میں انہیں دوں کیوں سزائیں آپ کے ہوتے ہوئے
یہ تو ہو سکتا نہیں ہے یہ بات ممکن ہی نہیں
میرے گھر میں غم آ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کون ہے الطاف اپنا حال دل کس سے کہیں
زخم دل کس کو دکھائیں آپ کے ہوتے ہوئے
حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
حالیہ پوسٹیں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے