ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
تیری غلامی کا دم بھرنا اچھا لگتا ہے
تیری نسبت سے طیبہ کی دل میں عقیدت اور چاہت ہے
یہاں پہ آنکھوں کے بل چلنا اچھا لگتا ہے
جس نے تیرے پاؤں چومے اس دھرتی کے ذروں کو
سرمہ بنا کے آنکھ میں بھرنا اچھا لگتا ہے
ہر اِک سانس ہے تیری امانت تیری چاہت رب کی چاہت
تیری محبت ہی میں جینا اچھا لگتا ہے
پہرے داروں کے پہرے میں اور چھڑیوں کی چھاؤں میں
روضے کی جالی کو چومنا اچھا لگتا ہے
جن گلیوں کو تجھ سے نسبت وہ عشاق کی منزل ہیں
ان گلیوں میں سجدے کرنا اچھا لگتا ہے
سارے ملائک اور خالق بھی تجھ پہ درود و سلام پڑھیں
ذکر تیرا صبح شام میں کرنا اچھا لگتا ہے
ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب