ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
تیری غلامی کا دم بھرنا اچھا لگتا ہے
تیری نسبت سے طیبہ کی دل میں عقیدت اور چاہت ہے
یہاں پہ آنکھوں کے بل چلنا اچھا لگتا ہے
جس نے تیرے پاؤں چومے اس دھرتی کے ذروں کو
سرمہ بنا کے آنکھ میں بھرنا اچھا لگتا ہے
ہر اِک سانس ہے تیری امانت تیری چاہت رب کی چاہت
تیری محبت ہی میں جینا اچھا لگتا ہے
پہرے داروں کے پہرے میں اور چھڑیوں کی چھاؤں میں
روضے کی جالی کو چومنا اچھا لگتا ہے
جن گلیوں کو تجھ سے نسبت وہ عشاق کی منزل ہیں
ان گلیوں میں سجدے کرنا اچھا لگتا ہے
سارے ملائک اور خالق بھی تجھ پہ درود و سلام پڑھیں
ذکر تیرا صبح شام میں کرنا اچھا لگتا ہے
ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض