ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
تیری غلامی کا دم بھرنا اچھا لگتا ہے
تیری نسبت سے طیبہ کی دل میں عقیدت اور چاہت ہے
یہاں پہ آنکھوں کے بل چلنا اچھا لگتا ہے
جس نے تیرے پاؤں چومے اس دھرتی کے ذروں کو
سرمہ بنا کے آنکھ میں بھرنا اچھا لگتا ہے
ہر اِک سانس ہے تیری امانت تیری چاہت رب کی چاہت
تیری محبت ہی میں جینا اچھا لگتا ہے
پہرے داروں کے پہرے میں اور چھڑیوں کی چھاؤں میں
روضے کی جالی کو چومنا اچھا لگتا ہے
جن گلیوں کو تجھ سے نسبت وہ عشاق کی منزل ہیں
ان گلیوں میں سجدے کرنا اچھا لگتا ہے
سارے ملائک اور خالق بھی تجھ پہ درود و سلام پڑھیں
ذکر تیرا صبح شام میں کرنا اچھا لگتا ہے
ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- انکی مدحت کرتے ہیں
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے