شاہ عبدالحق محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
یَا صَاحِبَ الۡجَمَالِ وَیَا سَیِّدَالۡبَشَر
مِنۡ وَّجۡہِکَ الۡمُنِیۡرِ لَقَدۡ نُوِّرَ الۡقَمَرُ
لَا یُمۡکِنِ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ
بعد از خُدا بزرگ تُو ئی قِصّۂ مُختصر
ترجمہ
اے صاحب الجما ل اور اے انسانوں کے سردار
آپ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا
آپ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں
قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ہی بزرگ ہیں
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
حالیہ پوسٹیں
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں