محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
سبھی کام بگڑے سنوارے چلا جا
مجھے بھا گئے ہیں مدینے کے جلوے
ارے جنتوں کے نظارے چلا جا
لیا نام ان کا جو موجِ بلا میں
بھنور نے کہا جا کنارے چلا جا
مدینے میں بے خود ہوا جا رہا ہوں
اے صبرو ضبط کے سہارے چلا جا
پہنچ ہی گیا ہوں میں آقا کے در پر
میری زندگی کے خسارے چلا جا
جرم چاہے جتنے ہوں بخشش کی خاطر
حبیبِ خدا کے دوارے چلا جا
محبؔوب باقی ہے جو زندگانی
درِ مصطفےٰ پہ گزارے چلا جا
محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
حالیہ پوسٹیں
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- تیری شان پہ میری جان فدا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی