حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- ایمان ہے قال مصطفائی