حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- رُبا عیات
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری