حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- اک خواب سناواں
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- تو سب کا رب سب تیرے گدا