حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
ربِ اعلیٰ کا پیارا مدینے میں ہے
غم کے مارو چلو سوئے طیبہ چلو
غمزدوں کا سہارا مدینے میں ہے
جنتوں کے طلبگارو تم بھی سنو
جنتوں کا نظارا مدینے میں ہے
پوجنے والو شمس و قمر جان لو
دو جہاں کا اجالا مدینے میں ہے
دور رہ کر مدینے سے کیسے جیئیں
کملی والا ہمارا مدینے میں ہے
حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
حالیہ پوسٹیں
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا