پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کا پتہ لایاہوں
دل بھی میرا ہے وہیں جان بھی میری ہے وہیں
لاش کو اپنے میں کندھوں پے اٹھا لایاہوں
سایہء گنبد خضرامیں ادا کر کے نماز
سر کو میں عرش کا ہم پایہ بنا لایا ہوں
جس نے چومے ہیں قدم سرور دوعالم کے
خاک طیبہ کو میں پلکوں پے سجالایاہوں
جان و دل رکھ کے میں طیبہ میں امانت کی طرح
پھر وہاں جانے کے اسباب بنالایا ہوں
پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے