فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
خلد کے غنچوں پہ عرشِ حق پہ سبھی جگہ تیرا نام دیکھا
تو کیا ہے اور کیا نہیں ہے شاہا تیری حقیقت خدا ہی جانے
دہن بھی تیرا زباں بھی تیری کلام رب کا کلام دیکھا
خدائے بر تر کو تیری مدحت قسم خدا کی ہے اتنی پیاری
کہ جس نے تجھ پہ درود بھیجا خدا کا اس پہ انعام دیکھا
ہاں اسمِ احمد کو جس کسی نے پیار سے بے خودی میں چوما
تو آنکھ والوں نے نارِ دوزخ کو اس بشر پہ حرام دیکھا
معراج کی شب جو انبیاء سب صفوں میں تھے انتظار کرتے
تو چشمِ اقصیٰ نے میرے آقا کو انبیاء کا امام دیکھا
فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
حالیہ پوسٹیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا