دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
میرے پُر از خطا جیون کا بیڑا پار ہو جائے
لبوں پہ ہو میرے صلِ علیٰ کا ورد یا مولا
بدن پھر موت کے لمحات سے دوچار ہو جائے
میں رو رو کے دہائی دوں میں امت میں لکھا جاؤں
کرم اتنا تو مجھ پہ اے شہِ ابرار ہو جائے
ہیں حج عمرہ نوافل صدقہ و خیرات اچھے پر
بنا عشقِ محؐمد کے یہ سب بے کار ہو جائے
نزع ہو گور ہو میزان ہو یا پُل میرے آقا
کرم عاصی پہ اے مولا تیرا ہر بار ہو جائے
دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- رُبا عیات
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا