دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
میرے پُر از خطا جیون کا بیڑا پار ہو جائے
لبوں پہ ہو میرے صلِ علیٰ کا ورد یا مولا
بدن پھر موت کے لمحات سے دوچار ہو جائے
میں رو رو کے دہائی دوں میں امت میں لکھا جاؤں
کرم اتنا تو مجھ پہ اے شہِ ابرار ہو جائے
ہیں حج عمرہ نوافل صدقہ و خیرات اچھے پر
بنا عشقِ محؐمد کے یہ سب بے کار ہو جائے
نزع ہو گور ہو میزان ہو یا پُل میرے آقا
کرم عاصی پہ اے مولا تیرا ہر بار ہو جائے
دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- تُو کجا من کجا
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے