طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- اک خواب سناواں
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا