طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا