طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- صانع نے اِک باغ لگایا
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- سیف الملوک
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے