طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- تُو کجا من کجا
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- رُبا عیات
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- میرے مولا کرم ہو کرم
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا