طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو