ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض