ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- چھائے غم کے بادل کالے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے