ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- رُبا عیات
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا