ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- صانع نے اِک باغ لگایا
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا