ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں