ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- تُو کجا من کجا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک