ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- صانع نے اِک باغ لگایا
- تیری شان پہ میری جان فدا
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- خوب نام محمد ھے اے مومنو