ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- ایمان ہے قال مصطفائی
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا