ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- تیری شان پہ میری جان فدا
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ