ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- میرے مولا کرم ہو کرم
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- قصیدۂ معراج