تیری شان پہ میری جان فدا
اِک جان تو کیا صد جان فدا
صد جان بھلا ہے چیز ہی کیا
یہ سارا جہاں صد بار فدا
صد بار جہاں بھی کم تر ہے
تیری شان پہ کون و مکان فدا
نہ کون و مکاں سے جی ہے بھرا
یہ مکاں اور لا مکان فدا
دل اب بھی تشنہ حسرت ہے
کروں لوح و قلم کی شان فدا
سب جنت دوزخ حور و ملک
ہر زمن کا ہر انسان فدا
سب عرشی فرشی شمس و قمر
ہر چیز کروڑوں بار فدا
کچھ بھی تو نہیں تیرے قابل
تیری شان کا حق ہو کیسے ادا
سب عالم کی ہر چیز تیری
میں قرباں یا رسول اللہ
تیری شان پہ میری جان فدا
حالیہ پوسٹیں
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے