تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا