جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہوا تب کسی چیز کی بھی کمی نہ رہی
جو بھی آیا گدا بن کے آیا یہاں سر جھکے کوئی گردن تنی نہ رہی
اس درِ پاک کی عظمتوں کی قسم جو بھی آیا یہاں جھولی بھر کے گیا
رحمتیں اتنی ارزاں لٹائی گئیں غم کے ماروں کو کوئی غمی نہ رہی
بے کسوں بے بسوں کو پناہ مل گئی عاصیوں کو بھی بخشش کی جا مل گئی
دیکھ کر اشک آنکھوں میں سرکار کی بارشِ ابرِ رحمت تھمی نہ رہی
دو جہاں میں وہ بدبخت شیطاں بنے ربِ کعبہ بھی بیزار اس سے رہے
اس درِ پاک سے جو بھی راندہ گیا بات کوئی بھی اس کی بنی نہ رہی
جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
حالیہ پوسٹیں
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- قصیدۂ معراج
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص