حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا