حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- میرے مولا کرم ہو کرم
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- تُو کجا من کجا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں