حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- قصیدۂ معراج
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- تیری شان پہ میری جان فدا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ