حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی