حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- دعا
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا