یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- اک خواب سناواں
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں