یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا