یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا