یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- چار یار نبی دے چار یار حق
- اک خواب سناواں
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- میرے مولا کرم ہو کرم
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں