یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے