یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- صانع نے اِک باغ لگایا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- چھائے غم کے بادل کالے
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے