میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حیرت سے گم کھڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں اک حقیر ذرہ تیری رحمتوں کے صدقے
خالق سے مل گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیری نعت یا محمد خالق کا ورد ٹھہرا
میں نعت خواں بنا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
نہ پاس زادِ راہ ہے نہ ہی کوئی قافلہ ہے
طیبہ کو چل پڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
جھولی عمل سے خالی میں بے نوا سوالی
تیرے در پہ آگیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیرے در کی نعمتوں میں تیری پاک محفلوں میں
میں سراپا کھو گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حالیہ پوسٹیں
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- صانع نے اِک باغ لگایا
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- بھر دو جھولی میری یا محمد