میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حیرت سے گم کھڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں اک حقیر ذرہ تیری رحمتوں کے صدقے
خالق سے مل گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیری نعت یا محمد خالق کا ورد ٹھہرا
میں نعت خواں بنا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
نہ پاس زادِ راہ ہے نہ ہی کوئی قافلہ ہے
طیبہ کو چل پڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
جھولی عمل سے خالی میں بے نوا سوالی
تیرے در پہ آگیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیرے در کی نعمتوں میں تیری پاک محفلوں میں
میں سراپا کھو گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حالیہ پوسٹیں
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن