نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
کریم آقا تیرے کرم کی طلب ہے
مدینے میں مِل جائے چھوٹی سی کُٹیا
نہ جنت نہ لوح و قلم کی طلب ہے
میری عیب پوشی سدا کرتے رہنا
کبھی جو نہ ٹوٹے بھرم کی طلب ہے
مصائب سے ایمان مضبوط تر ہو
ہاں شیرِ خدا کے عزم کی طلب ہے
تیری یاد میں جو ہمیشہ رہے نم
مجھے شاہا ایسی چشم کی طلب ہے
جو میرے عشق کو جِلا بخش دیوے
میرے دل کو ایسے ستم کی طلب ہے
میرے جُرم و عصیاں ہیں ان گِنت مولا
تیری بارگاہ سے رحم کی طلب ہے
جو غفلت کی نیندوں سے دل کو جگا دے
مجھے اس نگاہِ کرم کی طلب ہے
نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
حالیہ پوسٹیں
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- انکی مدحت کرتے ہیں
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق