اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی
تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
یہ شان لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے
سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی
کہتی ہے یہی طور سے اب تک شب۔ معراج
دیدار کی طاقت ہو تو پردہ نہیں کوئی
ہوتا ہے جہاں ذکر محمد کے کرم کا
اس بزم میں محروم تمنا نہیں کوئی
اعزاز یہ حاصل ہے تو حاصل ہے زمیں کو
افلاک پہ تو گنبد خضرا نہیں کوئی
سرکار کی رحمت نے مگر خوب نوازا
یہ سچ ہے کہ خالد سا نکما نہیں کوئی
اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی
اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
حالیہ پوسٹیں
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- انکی مدحت کرتے ہیں
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- امام المرسلیں آئے