خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ