خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے