خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- صانع نے اِک باغ لگایا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- رُبا عیات
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا