خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا