خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- صانع نے اِک باغ لگایا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- تُو کجا من کجا
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- قصیدۂ معراج