کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے