کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی