کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- تُو کجا من کجا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا