کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- صانع نے اِک باغ لگایا
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- میرے مولا کرم ہو کرم
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا