یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- اک خواب سناواں
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ