یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے