یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- تیری شان پہ میری جان فدا
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں