یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- چار یار نبی دے چار یار حق
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم