یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے