یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- ایمان ہے قال مصطفائی
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی