یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے