یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب