میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
مجھ کو نسبت ہے آلِ نبی سے ہاتھ میں دامنِ مصطفی ہے
میری پلکوں پے روشن ستارے دے رہے ہیں گواہی یہ سارے
جھانک کر میرے دل میں تو دیکھو مصطفی مصطفی کی صدا ہے
میرے مولا تو مالک ہے میرا سچا خالق ہے رازق ہے میرا
اس لیئے میں تجھے مانتا ہوں تو میرے مصطفی کا خدا ہے
جب بھی بچھڑا کرے مصطفی سے ہو بیاں کیسے لفظوں کا منظر
آگیا ہوں مدینے سے لیکن دل وہیں کا وہیں رہ گیا ہے
قدسیوں سے فلک نے جو پوچھا کیوں زمیں آج دلہن بنی ہے
قدسیوں نے کہا کے زمیں پر آج پھر محفلِ مصطفی ہے
میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
حالیہ پوسٹیں
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- دعا
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- میرے مولا کرم ہو کرم
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- تُو کجا من کجا
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو