ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- اک خواب سناواں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری