ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- سب سے افضل سب سے اعظم
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے