ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے