میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- سیف الملوک
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت