میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں