میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- تُو کجا من کجا