یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
آنکھیں مجھے دی ہیں تو مدینہ بھی دکھا دے
سننے کی جوقوت مجھے بخشی ہے خداوند
پھر مسجد نبوی کی اذانیں بھی سنا دے
حوروں کی نہ غلماں کی نہ جنت کی طلب ہے
مدفن میرا سرکار کی بستی میں بنا دے
منہ حشر میں مجھ کو نہ چھپانا پڑے یارب
مجھ کو تیرے محبوب کی کملی میں چھپادے
مدت سے میں ان ہاتھوں سے کرتاہوں دعائیں
ان ہاتھوں میں اب جالی سنہری وہ تھمادے
عشرتؔ کو بھی اب خوشبوئے حسان عطاکر
جو لفظ کہے وہ تو اسے نعت بنا دے
یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
حالیہ پوسٹیں
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- سیف الملوک
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا