مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
میں ان پیاری پیاری فضاؤں پہ صدقے
وہ کتنے حسیں کتنے پُر کشش ہونگے
خدا بھی ہے جن کی اداؤں پہ صدقے
جہاں کملی والا رہا آتا جاتا
میں ان گھاٹیوں ان گھپاؤں پہ صدقے
مدینے کی راہ میں جو ہیں پیش آتی
میں ان مشکلوں ان جفاؤں پہ صدقے
جو آقا کو شفقت پہ مجبور کر دیں
میں ان غلطیوں ان خطاؤں پہ صدقے
جو دربارِ طیبہ سے اٹھتی ہیں ہر دم
میں ان نوری نوری شعاؤں پہ صدقے
جو مانگی ہیں امت کی خاطر نبی نے
میں ان پیاری پیاری دعاؤں پہ صدقے
مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
حالیہ پوسٹیں
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- سب سے افضل سب سے اعظم
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں