بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
کرم کی جب نظر ہو گی مدینے ہم بھی جائیں گے
کسی صورت یہاں پر اب ہمارا جی نہیں لگتا
ہمیں بادِ صبا لے جااْڑا کر ان کے کوچے میں
اگر جانا مدینے میں ہوا ہم غم کے ماروں کا
مکینِ گنبدِ خضراء کو حالِ دل سنائیں گے
جب آئے موت خاک طیبہ مل کر جسم پرمیرے
سپردِ خاک کر دینا سجا کر اْن کے کوچے میں
قیامت تک جگائیں گے نہ پھر منکر نکیر اُس کو
لحد میں وؐہ جسے اپنا رخِ زیبا دکھائیں گے
قسم اللہ کی ہو گا وہ منظر دید کے قابل
قیامت میں رسول اللہؐ جب تشریف لائیں گے
گناہ گاروں میں خود آ آکے شامل پارسا ہوں گے
شفیعِ حشرؐجب دامانِ رحمت میں چھپائیں گے
غمِ عشقِ نبیؐ سے ہو گا جب معمور دل نیرؔ
تیرے ظلمت کدے بھی ستارے جگمگائیں گے
بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
حالیہ پوسٹیں
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- انکی مدحت کرتے ہیں
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں